جمعیت علماء اسلام کے صوبائی امیر مولوی محمد خان شیرانی نے صوبہ میں گورنر راج کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا علان کردیا

کوئٹہ(این این آئی)و اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین سینیٹر مولانا محمد خان شیرانی نے صوبہ بلوچستان میں گورنر راج کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا اعلان کردیا جس کے مطابق20جنوری کو کوئٹہ سمیت پورے بلوچستان میں احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے بروز جمعہ پچیس جنوری کو صوبے بھر میں شٹرڈاون اور یکم فروری کو پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کردیا ہے انہوں نے اس بات کا اعلان جمعہ کی رات ایم پی ایز ہاسٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر بی این پی عوامی کے مرکزی سیکرٹری جنرل و سابق صوبائی وزیر میر اسد اللہ بلوچ ،پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سابق صوبائی وزیر حاجی علی مدد جتک سمیت سابقہ وزراء سید احسان شاہ مولانا عبدالباری ،عبدالصمداخونزادہ ،میر شاہنواز مری ،سینیٹر حافظ حمد اللہ ،جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات دلاور خان کاکڑسمیت دیگربھی موجود تھے۔ مولانا محمد خان شیرانی نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں حالات چنددنوں سے خراب نہیں تھے بلکہ کافی عرصے سے خراب تھے اور جب صوبائی حکومت نے ریکوڈک پر بعض اثر شخصیات کا دباو قبول کرنے سے انکار کیا تو صوبائی حکومت کوآئین کے آرٹیکل234کے تحت برطرف کردیا جبکہ موجودہ صورتحال 232پر لاگو ہوتی تھی اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ صدر مملکت فوری طور پر آرٹیکل236کے تحت اپنا گورنر راج کا فرمان واپس لیکر صوبائی حکومت کو بحال کریں ۔انہوں نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم کو یہ پیش کش بھی کی تھی کہ اگر وزیراعلی بلوچستان کو ہٹانا چاہتے ہیں ہم اس کیلئے تیار ہیں ان ہاوس تبدیلی لائی جاسکتی ہے لیکن ہماری بات نہیں مانی گئی اور پوری کابینہ کو برطرف کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر یکم فروری تک صوبے میں گورنر راج کے فرمان کے بعد میں صدر مملکت نے اپنے احکامات واپس نہیں لئے تو ہم آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے انہوں نے کہا کہ 1973،1990اور2013ء میں بھی حکومت کو برطرف کیا گیا ہے پہلے سردار عطاء اللہ مینگل کی حکومت کو برطرف کیا گیا انہوں نے کہا کہ اگر وفاقی حکومت نے صوبائی حکومت کو بحال نہیں کیا تو ہمارے پاس بہت سے راز ہیں کہ کونسے لوگ دہشت گردی کرا رہے ہیں اور کون لوگ بلوچستان میں حالات خراب کر رہے ہیں بہت سی ایسی باتیں جو راز میں ہیں اگر ہماری بات نہ مانی گئی تو ہم یقینی طور پر راز افشاں کرنے پر مجبور ہوجائیں گے انہوں نے کہا کہ ہم سپریم کورٹ یا ہائی کورٹ اس لئے نہیں جارہے کہ وقت بہت تھوڑ ا ہے اور انتخابات قریب ہیں انہوں نے کہا کہ میں صرف ایک اشارہ دینا چاہتا ہوں کہ سابق وزیراعلی نواب اسلم رئیسانی کو ایک جگہ کھانے پر بلایا گیا اور کھانے سے قبل ایک فائل دی گئی کہ اس پر دستخط کئے جائیں مگر انہوں نے دستخط نہیں کئے اور وہ کھانا چھوڑ کر واپس آگئے ۔انہوں نے کہا کہ صدر مملکت نے جو صوبے میں گورنر راج کیا ہے شرط ہے کہ اس کی قومی اسمبلی او ر سینٹ سے اپنے فرمان کی توسیع کرائیں۔اس موقع پر بی این پی کے مرکزی سیکرٹری جنرل اور سابق صوبائی وزیرزراعت میر اسد اللہ بلوچ نے کہا کہ ہم جمہوری لوگ ہیں اور ہماری حکومت پر شب خون مارا گیا ہے یہ غیر جمہوری اور غیر آئینی اقدام ہے ہم اسے تسلیم نہیں کرتے اوراسکی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس طرح کے واقعہ سے بلوچستان کے حالات اس سے زیادہ خراب ہونگے جو موجودہ حالات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک بیورو کریٹ پنجاب سے افسران لاکر یہاں ڈی پی او بھرتی کر رہا ہے بلوچستان کے عوام کے حقوق سلب کئے جارہے ہیں جسے کسی صورت برداشت نہیں کریں گے یہ بلوچستان حکومت کے خلاف سب سے بڑی سازش ہے اور ہم غلط اقدامات کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہونگے۔انہوں نے کہا کہ کوئٹہ شہر میں ایک قبیلے کے افراد کی ہلاکت کا ہمیں دکھ ہے مگر حکومت کو مری ،بگٹی ،مینگل کے لوگوں جو مر رہے ہیں اور جن کے خلاف آپریشن کیا جارہا ہے وہ حکومت کو نظر نہیں آرہے سب کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہئے کیا بلوچستان میں صرف ایک واقعہ ہوا ہے جس پر حکومت کو برطرف کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں بنگلہ دیش جیسے حالات پیدا کئے جارہے ہیں اورا سکے پیچھے درپردہ خفیہ ہاتھ ہے اگر بلوچستان حکومت کے خلاف سازشیں بند نہ کی گئیں تو ہم احتجاج کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ پیپلز پارٹی کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر و سابق صوبائی وزیر علی مدد جتک نے کہا کہ صادق عمرانی اور جان علی چنگیز ی کے علاوہ پیپلز پارٹی کے 12ایم پی اے میرے ساتھ ہیں اور جس دن سے جلسے و جلوس کا سلسلہ شروع ہوگا وہ ہمارے ساتھ ہونگے۔

Leave a Response

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>